Where is Umat e Muslima?
گاؤں میں روایات کا بہت پاس رکھا جاتا ہے۔ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونا تقریباً فرض سمجھا جاتا ہے۔ اگر کسی کے گھر کوئی فوت ہو جائے تو پورے کا پورا گاؤں اکٹھا ہو جاتا ہے۔ کوئی دوسرے گاؤں سے آنے والوں کے لیے کھانے پینے کا بندوبست کرتا ہے، تو کوئی ان کے بیٹھنے کے لیے کرسیاں اکٹھی کرتا ہوا نظر آتا ہے، کوئی قبر تیار کرنے میں مصروف عمل ہوتا ہے، تو کوئی جنازے میں شریک ہونے والوں کو پانی پلانے کی ذمہ داری نبھاتا ہے۔ غرض یہ کہ گھر میں غمی کے اس ماحول میں اس گھر کے کسی فرد کو میت کے پاس سے اٹھانے کی کوشش نہیں کی جاتی اور تدفین تک ہی نہیں اس کے بعد بھی کئی دنوں تک کھانا پڑوسیوں کے گھروں سے آتا ہے تاکہ صدمے کے مارے ہوؤں کوکم از کم جسمانی مشقت سے بچایا جا سکے اور وہ بھوک پیاس سے نڈھال نہ ہوں۔ ہمارے تقریباً ہر گاؤں کی روایات میں ایسا ہی ہے۔ یہی حال خوشی کے موقعوں پر بھی دیکھنے میں آتا ہے کیونکہ سیانے کہتے ہیں کسی کے دکھ سکھ میں کام آؤ گے تبھی کوئی دوسرا بھی تمھارے کام آئے گا. یہ بہت گہرا جملہ ہے کہ کسی کے درد کو اپنا درد سمجھو گے، اس میں شریک ہوگے تبھی کوئی تمھارے درد کو بھی سمجھے گا اور دکھ سکھ میں کام آئے گا. ہوتا بھی یہی ہے کسی ایک جنازے یا شادی میں شریک نہ ہو تو وہی ہمدرد اور ساتھ دینے والے پڑوسی بھی آپ کے جنازے اور شادیوں میں شریک نہیں ہوتے۔ ہو بھی جائیں تو خلوص نیت اور جاں فشانی سے پہلے کی طرح ساتھ دیتے نظر نہیں آئیں گے.
اگر یہی بات فلسطین اور کشمیر کے حوالے سے دیکھی جائے تو اُمتِ مسلمہ کی حالت بھی ایسی ہی ہوتی جا رہی ہے۔ تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہوتے ہیں اور اگر کسی ایک حصے میں درد ہو تو پورے جسم کو بے چین کر دیتا ہے لیکن کشمیریوں پر کئی دہائیوں سے ظلم و ستم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں۔ مقامِ افسوس ہے کہ کوئی ایک ملک بھی اپنی پوری طاقت استعمال کرنے سے قاصر ہے۔ چلیں کشمیر پہ کچھ ممالک کا یہ بیانیہ ہے کہ یہ ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے (جو کہ سراسر غلط ہے) جبکہ وہاں پہ مسلمانوں پہ ظلم و زیادتی چیخ چیخ کر مسلم اُمّہ کو بتا رہی ہے کہ اب تم پر جہاد فرض ہے. کیا فلسطین میں مسجد اقصٰی (قبلہِ اوّل)، مسلمانوں کے دوسرے مقدس ترین مقام کی موجودگی کے باوجود بھی یہ کسی کا اندرونی معاملہ ہو سکتا ہے؟؟؟؟ کیا وہاں پہ ہونے والے ظلم سے ہر مسلمان کا دل نہیں تڑپا؟؟؟ کیا تمام مسلم ممالک کے حکمرانوں کو صرف بیانات کی حد تک ہی رہنا چاہیے تھا؟؟؟؟
نہتے کشمیریوں اور نہتے فلسطینیوں نے اپنے دینی بھائیوں کی راہ دیکھ دیکھ کر اپنے ہاتھوں میں پتھر اٹھا لیے کہ ان کی مدد کو اب ابابیلیں تو آسکتی ہیں لیکن ستاون ممالک میں موجود اربوں کی تعداد میں مسلمانوں سے کوئی ان کی مدد کو نہیں آنے والا.
ایسا دکھائی دیتا ہے کہ خواب غفلت میں سوئی اس امت کے تمام ممالک کو ایک ایک کر کے نشانہ بنایا جائے گا اور اپنوں کے درد کو اپنا نہ سمجھنے پر خدانخواستہ سب الگ الگ اپنے اپنے درد خود اٹھاتے ہوئے بدحالی کا شکار ہوتے جائیں گے.
اللّہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ امت مسلمہ کو خواب غفلت سے جگا کر اپنے اجداد کے نقش قدم پہ چلنے کی توفیق عطا فرمائے.آمین